امریکی صدورjust thank you facebook

دلچسپ اور عجیب

کیا آپ جانتے ہیں 
ابراہم لنکن 1861 میں امریکا کا صدر منتخب ہوا 
اور جون ایف اس سے ٹھیک ایک سو سال بعد 1961 میں صدر بنا 
ان دونوں صدور کا قتل ہوا تھا 
ابراہم لنکن کا قتل ایک تھیٹر میں ہوا جس تھیٹر میں ابراہم کا قتل ہوا اس کا نام فورڈ تھا 
اور جون ایف کینڈی قتل کے وقت جس گاڑی میں سوار تھا وہ گاڑی فورڈ تھی دونوں کا قتل جمعہ کے روز ہوا 
دونوں کے قاتلوں میں تین نام استمعال ہوتے ہیں 
John wilkes Booth and Lee Harvey Oswald
دونوں قاتلوں کے نام پندرہ حروف پر مشتمل ہیں 
جون وکس نے ابراہم کو تھیٹر میں گولی ماری اور ایک وہیر ہاؤس میں چھپ گیا تھا 
اور لی نے جون ایف کینڈی کو ایک وہیر ہاؤس سے گولی ماری اور ایک تھیٹر میں جا کر چھپ گیا تھا 
دلچسپ اور حیرت انگیز 
یہاں ابراہم لنکن کے بارے میں ایک بات کا اضافہ کروں گا کہ 
ابراہم لنکن کا والد ایک کاریگر انسان تھا، وہ کسان بھی تھا، جولاہا بھی او ر موچی بھی، وہ جوانی میں کارڈین کاؤنٹی کے امراء کے گھروں میں جاتا تھا اور ان کے خاندان کے جوتے سیتا تھا، 1861ء میں ابراہام لنکن امریکہ کا صدر بن گیا، اس وقت امریکی سینٹ میں جاگیرداروں، تاجروں ، صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ تھا، جوسینٹ میں اپنی کمیونٹی کے مفادات کی حفاظت کرتے تھے۔ ابراہم لنکن صدر بنا تو اس نے امریکہ میں غلامی کا خاتمہ کر دیا، اس نے ایک فرمان کے ذریعے باغی ریاستوں کے غلاموں کو آزاد کر کے فوج میں شامل کر لیا ، امریکی اشرافیہ لنکن کی اصلاحات سے براہ راست متاثر ہو رہی تھیں چنانچہ یہ لوگ ابراہم لنکن کیخلاف ہو گئے، یہ ابراہم لنکن کی شہرت کو بھی نقصان پہنچاتے تھے اور اس کی کردار کشی کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے، یہ لوگ سینٹ کے اجلاس میں عموماً ابراہم لنکن کا مذاق اڑاتے تھے لیکن لنکن کبھی اس مذاق پر دکھی نہیں ہوا، وہ ہمیشہ کہتا تھا میرے جیسے شخص کا امریکہ کا صدر بن جانا ان تمام لوگوں کے ہزاروں لاکھوں اعتراضات کا جواب ہے چنانچہ مجھے جواب دینے کی کیا ضرورت ہے۔ ابراہم لنکن کس قدر مضبوط اعصاب اور حوصلے کا مالک تھا آپ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگا لیجئے، یہ اپنے پہلے صدارتی خطاب کیلئے سینٹ میں داخل ہوا، یہ صدر کیلئے مخصوص نشست کی طرف بڑھ رہا تھا اچانک ایک سینیٹر اپنی نشست سے اٹھا اور ابراہم لنکن سے مخاطب ہو کر بولا، ’’لنکن صدر بننے کے بعد یہ مت بھولنا کہ "تمہارا والد میرے خاندان کے جوتے سیتا تھا‘‘۔ یہ فقرہ سن کر پورے سینٹ نے قہقہ لگایا۔
لنکن مسکرایا اور سیدھا ڈائس پر چلا گیا اور اس رئیس سنیٹر سے مخاطب ہو کر بولا ’’سر! میں جانتا ہوں میرا والد آپ کے گھر میں آپ کے خاندان کے جوتے سیتا تھا اور آپ کے علاوہ اس ہال میں موجود دوسرے امراء کے جوتے بھی سیتا رہا لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ امریکہ میں ہزاروں موچی تھے مگر آپ کے بزرگ ہمیشہ میرے والد سے جوتے بنواتے تھے، کیوں؟ اس لئے کہ پورے امریکہ میں کوئی موچی میرے والد سے اچھا جوتا نہیں بنا سکتا تھا، میرا والد ایک عظیم فنکار تھا، اس کے بنائے ہوئے جوتے محض جوتے نہیں ہوتے تھے، وہ ان جوتوں میں اپنی روح ڈال دیتا تھا، میرے والد کے پورے کیریئر میں کسی نے ان کے بنائے ہوئے جوتے کی شکایت نہیں کی، آپ کو آج بھی میرے والد کا بنایا جو تا تنگ کرے تو میں حاضر ہوں، میں بھی جو تا بنانا جانتا ہوں، میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے نیا جوتا بنا کر دوں گا لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کوئی میرے والد کے کا م کی شکایت نہیں کرے گا کیونکہ پورے امریکہ میں میرے والد سے اچھا موچی کوئی نہیں تھا۔ وہ ایک عظیم فنکار، ایک جینئس اور ایک عظیم کاریگر تھا اور مجھے اس عظیم موچی کا بیٹا ہونے پر فخر ہے‘‘ ابراہم لنکن نے تقریر ختم کی اور صدارت کی کرسی پر بیٹھ گیا، پورے ہال کو سانپ سونگھ گیا، لنکن پر فقرہ کسنے والے سینیٹر نے شرمندگی کے عالم میں سر جھکایا اور اس کے بعد کسی امریکی سیاستدان نے لنکن کو موچی کا بیٹا نہیں کہا۔
کیا آپ جانتے ہیں 
Riley Horner
نامی ایک لڑکی کو سر میں چوٹ لگی اور وہ بےہوش ہو گئی 
اس کے بعد یہ میموری ہر دو گھنٹے کے بعد ریفریش ہو جاتی ہے اور رات سونے کے بعد جب وہ جاگتی ہے تو اسے جی تاریخ اور دن یاد ہوتے ہیں وہ گیارا جون کا ہوتا ہے 
کیا آپ جانتے ہیں 
Hypatia Stone
جو اپنی عجیب شکل کی وجہ سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنا یہ انہیں سہارا صحرا سے ملا اس پر تحقیق کی تو حیران کن طور پر اس کی عمر ہمارے سورج اور شاید سولر سسٹم سے بھی پرانی بتائی گئی 
کیا آپ جانتے ہیں 
جاپانی سائنسدانوں نے ایسا آلہ بنا لیا ہے جو آپ کے خواب ریکارڈ کر کے ویڈیو کی شکل میں پلے کر سکتا ہے 
کیا آپ جانتے ہیں 
فرانكینسٹاین نامی ایک مصنفہ نے اپنے شوہر کا دل نکال کر اپنے پاس تیس سال تک رکھا جو اس کی موت کے ایک سال بعد اس کے کمرے کے ایک دراز میں پڑا ملا جو مصنفہ نے اپنی ایک غزل میں لپیٹ رکھا تھا 
کیا آپ جانتے ہیں 
ہیرواؤنوڈا 
ایک جاپانی سپاہی جو دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک ایریا میں چھپ گیا تھا وہ وہاں انتیس سال چھپا رہا یہ جانیں بنا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے 
اتنا بے خبر تو میں بھی نہیں ہوں 😁
کیا آپ جانتے ہیں 
فنلینڈ میں ٹریفک فائن فكس  نہیں ہوتے یہ ڈرائیور کی ماہانہ آمدنی کے حساب سے چارج کیے جاتے ہیں ۔
کیا آپ جانتے ہیں 
جو لوگ اپنے آپ کے ساتھ بات کرتے ہیں ان کا آئی کیو بہت اچھا ہوتا ہے 
کیا آپ جانتے ہیں 
تاج محل کی تعمیر میں جن مزدوروں نے حصہ لیا تھا ان میں سے کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا تھا یہ صرف مسلم حکمرانوں کو ظالم بنانے کے لیے کہانی گھڑی گئی تھی 
کیا آپ جانتے ہیں 
مچھری جب کسی بندے کو کاٹتی ہے تو اس کے جسم میں ایک کیمیکل انجکیٹ کرتی ہے جو خون کو جمنے سے روکتا ہے اور درد کو کم کرتا ہے یہی کیمیکل بعد میں خارش کی وجہ بھی بنتا ہے

Comments

Popular Posts