امیر تیمور

امیر تیمور جو (تمر لین)تیمور لنگ کے نام سے بھی مشہور تھا (پیدائش: 1336ء، وفات: 1405ء) تیموری سلطنت کا بانی اور ایک تاریخ عالم کا ایک عظیم جنگجو حکمران تھا۔ تیمور کے استاد کا نام علی بیگ تھا کہا جاتا ہے کہ استاد علی بیگ اپنے طالب علموں کوسبق یاد کرانے کے لیے ڈنڈے کا استعمال کرتے تھے لیکن انہوں نے کبھی بھی تیمور کو نہیں مارا کیونکہ تیمور ہمیشہ اپنا سبق یاد کرلیتا تھا۔ ایک دن علی بیگ نے تیمور کے والد کو بلا کر کہا کہ اس بچے کی قدر جان یہ نا صرف ذہین اور دوسرے بچوں سے بہت آگے ہے بلکہ اس میں ناقابلہ یقنین صلاحیتیں ہیں۔ تیمور نے تین سال میں قرآن حفظ کر لیا تھا گویا صرف دس سال کی عمر میں وہ قرآن حافظ بن چکا تھا۔

تیمور ایک ترک منگول قبیلے برلاس سے تعلق رکھتا تھا چنگیز خان اور امیر تیمور دونوں کا جد امجد تومنہ خان تھا۔ تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا۔ وہ سمرقند کے قریب ایک گاؤں ’’کیش‘‘ میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے۔۔ تیمور دریائے جیحوں کے شمالی کنارے پر واقع شہر سبز (جس کو کش بھی کہتے ہیں) 1336ء میں پیدا ہوا۔ یہ علاقہ اس وقت چغتائی سلطنت میں شامل تھا جو زوال کی منازل طے کر رہی تھی۔ چغتائی حکمران بے بس ہوچکے تھے اور ہر جگہ منگول اور ترک سردار اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔

تخت نشین ہونے کے بعد اس نے صاحب قران کا لقب اختیار کیا۔ (علوم نجوم کی رو سے صاحب قران وہ شخص کہلاتا ہے جس کی پیدائش کے وقت زہرہ اور مشتری یا زحل اور مشتری ایک ہی برج میں ہوں۔ ایسا شخص اقبال مند، بہادر اور جری سمجھا جاتا ہے مجازا اپنے دور کا عظیم ترین حکمران)۔

تیمور نے اپنی زندگی میں بیالیس ملک فتح کیے۔ وہ دنیا کے چند نادر لوگوں میں بھی شامل ہوتا ہے۔ تیمور کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کام لے سکتا تھا۔ وہ ایک ہاتھ میں تلوار اُٹھاتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کلہاڑا۔

فتوحات امیر تیمور۔۔۔

بلخ میں تخت نشین ہونے کے بعد تیمور نے ان تمام علاقوں اور ملکوں پر قبضہ کرنا اپنا حق اور مقصد قرار دیا جن پر چنگیز خان کی اولاد حکومت کرتی تھی۔ اس غرض سے اس نے فتوحات اور لشکر کشی کے ایسے سلسلے کا آغاز کیا جو اس کی موت تک پورے 37 سال جاری رہا۔ تیمور کے ابتدائی چند سال چغتائی سلطنت کے باقی ماندہ حصوں پر قبضہ کرنے میں صرف ہو گئے۔ وہ 776ھ میں کاشغر اور 781ھ میں خوارزم پر قابض ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے خراسان کا رخ کیا۔ 1381ء بمطابق 783ھ میں ہرات کے خاندان کرت کو اطاعت پر مجبور کیا۔ اگلے سال نیشاپور اور اس کے نواح پر اور 785ھ میں قندھار اور سیستان پر قبضہ کیا۔ 1386ء میں اس نے ایران کی مہم کا آغاز کیا جو "یورش سہ سالہ" کہلاتی ہے اور اس مہم کے دوران میں ماژندران اور آذربائجان تک پورے شمالی ایران پر قابض ہو گیا۔ اس مہم کے دوران میں اس نے گرجستان پر بھی قبضہ کیا۔

فتوحات کی وسعت کے لحاظ سے تیمور کا شمار سکندر اعظم اور چنگیز خان کے ساتھ دنیا کے تین سب سے بڑے فاتح سپہ سالاروں میں ہوتا ہے۔ فتوحات کی کثیر میں وہ شاید چنگیز سے بھی بازی لے گیا۔ چنگیز کے مفتوحہ علاقوں کا طول مشرق سے مغرب تک بہت زیادہ تھا لیکن شمالا جنوبا عرض تیمور کے مقابلے میں کم تھا۔ پھر چنگیز کی سلطنت کا ایک بڑا حصہ اس کے سپہ سالاروں نے فتح کیا تھا جبکہ تیمور دہلی سے ازمیر تک اور ماسکو سے دمشق اور شیراز تک ہر جگہ خود گیا اور ہر جنگ میں خود شرکت کی۔ چنگیزجنگ کی منصوبہ بندی اچھی کر سکتا تھا جبکہ تیمور میدان جنگ میں فوجوں کو لڑانے میں استاد تھا۔ 1393ء میں کلات اور تکریت کے ناقابل تسخیر پہاڑی قلعوں کی تسخیر اس کی اس صلاحیت کا بڑا ثبوت سمجھی جاتی ہے۔

(چنگیز اور تیمور کی جنگی صلاحیتوں کے تقابل کے لیے دیکھیے ہیرلڈ لیمب کی کتابیں "چنگیز خان" اور "تیمور"۔ ان دونوں کتابوں کا مولوی عنایت اللہ نے اردو میں ترجمہ کیا ہے)

تیمور کی بحیثیت ایک سپہ سالار حیرت انگیز صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اس نے اس خداداد صلاحیت سے جو کام لیا وہ اسلامی روح کے خلاف تھا۔ اس کی ساری فتوحات کا مقصد ذاتی شہرت اور ناموری کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ اس لحاظ سے وہ خالد بن ولید، محمود غزنوی، طغرل اور صلاح الدین ایوبی کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ وہ انتقام کے معاملے میں بہت سخت تھا۔ مخالفت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ مسلمان ہونے کے باوجود خونریزی اور سفاکی میں چنگیز خان اور ہلاکو خان سے کم نہیں تھا۔ دہلی، اصفہان، بغداد اور دمشق میں اس نے جو قتل عام کیے ان میں ہزاروں بے گناہ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ وہ انتقام کی شدت میں شہر کے شہر ڈھادیتا تھا۔ خوارزم، بغداد اور سرائے کے ساتھ اس نے یہی کیا۔ صرف مسجد، مدرسے اورخانقاہیں غارت گری سے محفوظ رہتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں منگولوں کی طرح وہ بھی اللہ کا عذاب تھا۔

تیمور نے اپنی فتوحات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور کوئی تعمیری کام نہیں کیا۔ مفتوحہ ممالک کا بڑا حصہ ایسا تھا جس کواس نے اپنی سلطنت کا انتظامی حصہ نہیں بنایا۔ ان ملکوں کا وہ مقامی حکمرانوں کے سپرد کردیتا تھا اور ان سے صرف اطاعت کا وعدہ لے کر مطمئن ہوجاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایشیائے کوچک، شام، روس اور ہندوستان کے وسیع مفتوحہ علاقے جو بڑی خونریزی کے بعد حاصل ہوئے تھے تیموری سلطنت کا حصہ نہ بن سکے۔ اگر وہ ان ملکوں کو اپنی سلطنت کا انتظامی حصہ بنالیتا تو دنیا کی ایک عظیم الشان سلطنت وجود میں آتی۔ اس معاملے میں چنگیز اور منگول تیمور سے بہتر تھے کہ وہ جس علاقے کو فتح کرتے تھے اس کو براہ راست اپنے زیر انتظام بھی لے آتے تھے۔ اس نے قفقاز کے علاقے میں لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش بھی کی جو اسلام کی روح اور تعلیم کے خلاف ہے۔

تیمور نے توقتمش، بایزید یلدرم اور سلطان مصر کو شکست دے کر عالم اسلام کی دو بڑی طاقتوں کو ختم تو کر دیا لیکن ان کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا اس کوپر نہ کرسکا۔ اگر بایزید کی طاقت ختم نہ ہوتی تو بلقان کا علاقہ ڈیڑھ سو سال پہلے مسلمانوں کے قبضے میں آچکا ہوتا۔ سرائے کی مملکت کی تباہی بھی اسلامی دنیا کے لیے اچھی ثابت نہ ہوئی۔ سرائے کی طاقتور مملکت کے ختم ہونے سے ماسکو کی نئی طاقت ابھرنے کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔ تیمور نے روس میں توقتمش کے خلاف اور ایشیائے کوچک اور مصر میں سلطنت عثمانیہ اور مملوکوں کے خلاف جو لشکر کشی کی اگرچہ ہم اس کا الزام تیمور پر نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس نے اپنی طرف سے صلح و صفائی سے مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کی تھی، لیکن ان لشکر کشیوں کے نتیجے میں دنیائے اسلام کو جو نقصان پہنچا اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اسلامی تاریخ میں تیمور کا دور ایک بدنما دھبہ ہے۔ اس دور میں دنیا کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ تیمور کو مناسب اسلامی تربیت نہيں ملی تھی اور اس کی نشو و نما تورہ چنگیزی کی حدود میں اور نیم وحشی منگول ماحول میں ہوئی تھی۔

بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا جس علاقے میں تیمور نے اپنی مستقل حکومت قائم کی وہاں اس نے قیام امن اور عدل و انصاف، خوشحالی اور ترقی کے سلسلے میں قابل قدر کوششیں کی۔ برباد شدہ شہروں کو دوبارہ تعمیر کیا اور تجارت کو فروغ دیا۔

بایزید اول، پیدائش 1354ء، (انگریزی: Bayezid I) (عثمانی ترکی زبان: بايزيد اول; ترکی: 1. Beyazıt; عرفیت Yıldırım (عثمانی ترکی: ییلدیرم), "بجلی") 1389ءسے 1402ء تک سلطنت عثمانیہ کے چوتھے فرمانروا رہے۔ انہوں نے اپنے والد مراد اول کے بعد مسند اقتدار سنبھالی جو جنگ کوسوو اول میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد بایزید نے اپنے چھوٹے بھائی یعقوب کی بغاوت کو فرو کیا۔ بعد ازاں انہوں نے سربیا کے شاہ لازار کی صاحبزادی شہزادی ڈسپنا سے عقد کر لیا اور اسٹیفن لازاریوچ کو سربیا کا نیا سربراہ متعین کیا اور سربیا کو کافی خود مختاری دی۔ اس فتح کے بعد مسیحی بیوی کے باعث بایزید کو شراب کی لت پڑ گئی لیکن بعد ازاں سلطنت عثمانیہ کیخلاف مسیحیوں کے اعلان جنگ پر وہ اس سے تائب ہو گیا۔

1391ءمیں بایزید نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا جو اس اس وقت بازنطینی سلطنت کا دار الحکومت تھا۔ 1394ءمیں بازنطینی حکمران جون پنجم پیلایولوگس کے مطالبے پر سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے کے لیے پوپ بونیفیس نہم نے صلیبی جنگ کا اعلان کیا گیا۔ شاہ ہنگری اور رومی حکمران سجسمنڈ کی زیر قیادت اس مسیحی اتحاد میں فرانس اور ولاچیا بھی شامل تھے۔ دونوں افواج کا ٹکرائو 1396ء میں نکوپولس کے مقام پر ہوا جہاں بایزید نے عظیم الشان فتح حاصل کی اور اس شاندار فتح نے نہ صرف یورپ کے مسیحیوں کی کمر توڑدی بلکہ بایزید کی شہرت کو بھی بام عروج پر پہنچادیا۔ (دیکھیے : جنگ نکوپولس) اس فتح کی خوشی میں بایزید نے دار الحکومت بروصہ میں عظیم الشان جامع مسجد اولو جامع قائم کی۔

قسطنطنیہ کا محاصرہ 1401ء تک جاری رہا جس کے دوران ایک مرتبہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کا بازنطینی حکمران شہر چھوڑ کر فرار ہو گیا اور قریب تھا کہ شہر مسلمان افواج کے ہاتھ آجاتا کہ بایزید کو مشرقی سرحدوں پر تیمور لنگ کے حملے کی خبر ملی جس پر اسے چاروناچار محاصرہ اٹھانا پڑا۔

1400ءمیں وسط ایشیا کا جنگجو حکمران تیمور لنگ مقامی حکومتوں کو زیر کرکے ایک وسیع سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور تیموری اور عثمانی ریاستوں کی سرحدیں ملنے کے باعث دونوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ 20 جولائی 1402ء کو جنگ انقرہ میں تیمور نے عثمانی فوج کو شکست دیکر بایزید کو گرفتار کر لیا تاہم عثمانی شہزادے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مشہور ہے کہ تیمور نے بایزید کو پنجرے میں بند کر دیا تھا اور اسے ہر جگہ لیے پھرتا تھا لیکن یہ من گھڑت قصے ہیں تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ تیمور نے بایزید کے ساتھ اچھا برتائو کیا اور اس کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

بایزید کو جنگ انقرہ میں شکست کا اتنا غم تھا کہ وہ ایک سال بعد ہی 1403ءمیں دوران قید انتقال کرگیا۔

جنگ انقرہ 20 جولائی 1402ء (805ھ) میں تیموری سلطنت کے بانی امیر تیمور اور عثمانی سلطان بایزید یلدرم کے درمیان لڑی گئی۔ دونوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد تیموری و عثمانی افواج انقرہ کے مقام پر آمنے سامنے ہوئیں۔ جنگ میں امیر تیمور نے فتح حاصل کرکے ثابت کر دیا کہ وہ دنیا کا سب سے طاقتور حکمران ہے۔ شکست کے بعد بایزید اپنے ایک بیٹے اور چند جرنیلوں سمیت گرفتار ہوا اور تیمور اسے سمرقند لے گیا جہاں وہ اگلے سال انتقال کرگیا۔ اس شکست کے نتیجے میں عثمانی سلطنت کا اقتدار تقریبا ختم ہو گیا لیکن بایزید کے ایک بیٹے محمد اول نے سلطنت کی گذشتہ عظمت کو دوبارہ بحال کیا۔

نیچے دی گئی تصویر میں بایزید یلدرم امیر تمیور کی قید میں ہے۔۔۔

Comments

Popular Posts