اندراگاندھی

اندرا گاندھی جو بھارت کی تین بار وزیراعظم رہیں ، ان کا اصل نام "اندرا پریا درسن نہرو" تھا اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی تھیں ، آلہ آباد میں پیدا ہوئیں ، وشوا بھارتی شانتی نکتین سے ابتدائی تعلیم حاصل کی بعد میں سوئٹزرلینڈ ، سمر ویل کالج آکسفورڈ سے مزید تعلیم حاصل کی ، اندرا پریا درسن نہرو نے گیارہ سال کی عمر میں سیاست میں حصہ لیا ، انگلینڈ سے واپسی پر طلباء تحریک کی قیادت کی جب ہندستان چھوڑو تحریک اپنے عروج پر تھی اور اسی پاداش میں 13 ماہ کی جیل کاٹی ، 1942 کو ایک پارسی نوجوان فیروز گاندھی ( بعض مؤرخین کے مطابق وہ مسلمان تھے جب کہ وہ گاندھی نہیں تھے).
66۔ 1964 میں وزیر اطلاعات و نشریات ہوئیں ۔ 1966ء میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد انہیں بھارت کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔
بہت ہی خوبصورت نقش و نگار اور بہترین قدو قامت کی مالک تھیں ، اس تحریر کا مقصد ان کی فیروز خان سے شادی کے متعلق ہے کہ ان کی شادی کیسے ہوئی آیا فیروز پارسی تھا یا مسلمان تھا ؟ مگر یہ بات ثابت ہے کہ اندرا شادی کے بعد بھی ہندؤ ہی رہیں نا پارسی بنیں اور نا ہی مسلمان ۔
ہندستان کے کئی مؤرخین نے مختلف داستانیں بیان کی ہیں ، ہندو مؤرخین فیروز کو پارسی قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ حلقے فیروز خان کو مسلمان لکھتے ہیں ( مؤرخین فیروز کو خان لکھتے ہیں مگر میری تحقیق کے مطابق فیروز کے خان ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے)
فیروز جہانگیر فریدون کے بیٹے تھے ان کا تعلق ایران سے تھا مذہبی لحاظ سے جہانگیر فریدون مسلمان تھے انہوں نے ایک پارسی خاتون رتی مائی سے شادی کی تھی ، شادی کے بعد رتی مائی نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا ۔
فیروز کے خاندان کا نام "گھندے" تھا مگر مہاتما گاندھی سے اس قدر متاثر تھا کہ گھندے نام ترک کر کے فیروز گاندھی رکھ لیا ، مہاتما گاندھی بھی ان کو بہت چاہتے تھے ۔
ایک موقع پر مہاتما گاندھی نے کہا کہ اگر مجھے فیروز کی طرح کے سات کارکن مل جائیں تو میں ہندوستان کو سات روز میں آزاد کرا لوں۔
بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ نہرو فیروز کی مذہبی شناخت کو چھپانے کیلئے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ گاندھی لگائیں ، اس طرح شادی کے بعد اندرا کے نام کے ساتھ بھی لفظ گاندھی آ گیا۔
جہانگیر فریدون کے انتقال کے بعد فیروز فریدون ممبئی سے الہ آباد منتقل ہوئے یہیں پر انہوں نے 1930 میں کانگریس کے سرگرم کارکن بنے ، اپنی پرجوش طبعیت کی بنا پر جلد اپنی حیثیت منوا لی ، بھارت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری اور فیروز اکٹھے جیل کاٹ چکے تھے۔ 
جواہر لعل نہرو کی بیوی اور اندرا کی والدہ "کمالہ" بھی سیاسی طور پر سرگرم تھیں یوں  فیروز کی کمالہ سے بھی قربت تھی ، جب کمالہ کو ٹی بی کی بیماری ہوئی تو فیروز انہیں علاج کیلئے انگلینڈ لیکر آئے ، یہیں پر فیروز اور اندرا نے اپنے دل ایک دوسرے کو دے دیئے مگر کمالہ کو فیروز بحثیت داماد قبول نہیں تھا۔  
سوئیڈن کے ادیب اور صحافی "برٹل فوک" اپنی کتاب "فیروز خان دی فارگٹن گاندھی"
(Feroz Khan The Forgotten Ghandhi)
 میں لکھتے ہیں کہ کمالہ نے اپنے خاوند جواہر لال نہرو سے اپنی موت سے پہلے کہا تھا کہ وہ اندرا کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس حق میں قطعی نہیں ہیں کہ وہ فیروز سے شادی کرے کیونکہ وہ اندرا کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے فیروز نے کمالہ سے اپنی اور اندرا کی شادی کی تجویز رکھی تھی جسے کمالہ مسترد کر چکی تھی۔
1936 میں کمالہ کا انتقال ہوگیا مگر فیروز اور اندرا کا عشق اپنے عروج کی آخری منزلیں چھو رہا تھا ، نہرو کو دونوں کے معاشقے کا علم تھا مگر اس وقت بہت پریشان ہوا جب اندرا اور فیروز نے لندن کی ایک مسجد میں نکاح کر لیا (کچھ مؤرخین کے مطابق اندرا نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام میمونہ بیگم رکھ لیا مگر کوئی بھی دستاویزی ثبوت نہیں دے سکے)
نہرو نے اس شادی کے سلسلے میں گاندھی سے رجوع کیا کہ وہ اپنا کردار ادا کریں ، نہرو کو شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا انہیں اگر فکر تھی تو فیروز کے مذہب کی تھی اس لئے انہوں نے 26 مارچ 1942 کو ہندستان کے ایک  مندر میں ہندؤ رسم و رواج کے مطابق دوبارہ شادی کروائی۔
اندرا چونکہ خوبصورت بھی تھیں اور بہترین بدن کی مالک تھیں جس میں دوسروں کیلئے کافی کشش رکھتی تھیں ، اس لئے دیگر لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی رہتی تھیں اس کے علاوہ دل پھینک بھی تھیں اور ان کے دیگر افراد کے ساتھ جنسی تعلقات کے عینی شاہد  ان کے ذاتی محافظ اور ڈرائیور پریم نارائن نے ایک کتاب بھی لکھی "جب اندرا جوان تھی" (اس کتاب کا پھر کبھی تذکرہ کروں گا). 
فیروز کو اندرا سے دو بیٹے ہوئے، راجیو 1944 میں اور سنجے 1946 میں پیدا ہوئے۔
جبکہ معروف بھارتی اسکالر این راؤ کے مطابق جو انہوں نے اپنی کتاب "دی نہرو ڈائنسٹی" میں لکھا ہے کہ اندرا اپنے باپ جواہر لعل نہرو کی طرح دل پھینک اور حسن پرست تھیں ، راجیو کی پیدائش کے بعد دونوں کے تعلقات خراب تھے ، دونوں کے درمیان طلاق نہیں ہوئی تھی مگر علحیدہ رہتے تھے ، اسی علیحدگی کے درمیان اندرا حاملہ ہوئی ، این راؤ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس وقت اندرا کے تعلقات ایک مسلمان سفارت کار یونس خان سے تھے جو بعد میں اندرا کا مشیر بھی رہا ، سنجے اسی یونس خان کا بیٹا ہے ۔
بعد ازاں یونس خان نے بھی ایک کتاب لکھی جس کا نام  "پرسنز ، پیشنز اینڈ پالیٹکس" اس میں یونس خان لکھتے ہیں کہ "سنجے کے ختنے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ مسلم روایات کا خاصا ہے."
اندرا لندن کے قیام کے دوران گرزے ایام کو سرمایہ کہتی ہیں مگر طبعیت میں جابرانہ مزاج کے باعث بہت کم لوگوں سے دیرپا تعلقات قائم رکھتی تھیں ، فیروز کو محسوس ہوا کہ ہندو دھرم میں شوہر کا درجہ دیوتا جیسا ہوتا ہے اور اندرا اس کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کرتی ہے تو اندرا سے الگ ہو گئے ۔
پہلے بھارتی عام انتخابات 1952 میں ہوئے اور فیروز گاندھی "رائے بریلی" سے نشست جیتے ، اسی رائے بریلی کی نشست پر راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی انتخابات لڑتے آئے ہیں ۔
 1960 میں انہیں دل کا دورا پڑا اور وہ دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین پارسی رسم ورواج کے مطابق ادا کی گئی ۔ فیروز کی وفات کے چھ سال بعد اندرا گاندھی بھارت کی وزیراعظم بنیں ۔
بھارت کے کئی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر فیروز کی شادی اندرا گاندھی سے نہ ہوتی اور ان کی زندگی ان سے وفا کرتی تو وہ بھارت کے صدر یا وزیراعظم ضرور منتخب ہوتے کیونکہ کہ ان کے اندر لیڈروں والی تمام صلاحیتیں موجود تھیں اسی وجہ سے نہرو بھی ان سے خوفزدہ رہتے تھے ۔

Comments

Popular Posts