گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر نقش کیے ہوئے ہزاروں سال پرانے نقوش
پتھروں پر لکھی گئی تاریخ — گلگت بلتستان کے شاتیال کے حیرت انگیز پیٹروگلفس (پاکستان کی سرزمین پر 10,000 سال پرانی انسانی داستانیں) یہ تصویر بظاہر ایک خوبصورت منظر دکھاتی ہے — پہاڑوں کے دامن میں بچھا ایک پتھریلا راستہ۔ لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں، تو یہ پتھر دراصل صفحات ہیں — ایسی کتاب کے، جسے انسان نے ہزاروں سال پہلے اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا۔ یہ ہیں شاتیال (Shatial) کے پیٹروگلفس (Petroglyphs) — گلگت بلتستان کے علاقے میں قراقرم ہائی وے پر واقع وہ نایاب چٹانی نقش و نگار، جو 10,000 سال پرانے ہو سکتے ہیں، یعنی قبل از تاریخ (Stone Age) سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب انسان نے پہلی بار بات کرنا سیکھی — پتھروں کے ذریعے اس دور میں نہ کاغذ تھا، نہ قلم۔ زبان بھی شاید مکمل نہیں بنی تھی۔ لیکن انسان کے اندر اظہار کی پیاس تھی — اور اس نے پتھروں پر نقوش، تصویریں، علامات بنا کر اپنی کہانیاں، اپنے عقائد، اپنے خواب اور خدشات کو محفوظ کر لیا۔ شاتیال کے یہ نقش و نگار ہزاروں کی تعداد میں پہاڑوں پر پھیلے ہوئے ہیں، جن میں شامل ہیں: جانوروں کی شکلیں (بکریاں، ہرن، یاک) شکار کے مناظر بدھ مت کے اسٹوپاز اور مہا یان روایات کی ع...


